23 جون 2012 - 19:30

مصری الیکشن کمیشن کا اعلان: محمد مرسی نے 51.73 فیصد ووٹ لے کر انقلاب مصر کے پہلے جمہوری صدر منتخب / مصری عوام کا جشن / مصری حکومت کی انتظامی تدابیر / مرسی کا پارلیمان میں ہی حلف اٹھانے پر اصرار / فلسطین میں بھی جشن / فلسطینی وزير اعظم اسماعیل ہنیہ کی مبارکباد / اسلامی حمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی مبارک باد / صہیونیوں کی تشویش.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے الیکشن کمیشن نے اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی کی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی کا باقاعدہ اعلان کیا -مصر کے الیکشن کمیشن کے سربراہ فاروق سلطان نے آج محمد مرسی کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انقلابیوں کے امیدوار اکثریت حاصل کرکے مصر کے صدر منتخب ہوئے-محمد مرسی نے ووٹنگ میں 51،73 جبکہ احمد شفیق نے 48.27 فیصد ووٹ حاصل کی - مصر میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے- محمد مرسی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ کامیابی کی صورت میں وه اپنی کابینہ میں 70 فیصد انقلابی جماعتوں اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کریں گے ادھر قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں بعض مظاہرین نے فوجی کونسل کی دھمکیوں کے ردعمل میں کفن پوش ہوکر دھرنا دیا ہے- مظاہرین نے انقلاب کے مقاصد کی تحفظ پر تاکید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ انقلاب کے لئے اپنی جان بھی دینے کو تیار ہیں - محمد مرسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے 70فیصدوزراء کو انقلابیوں سے منتخب کریں گے.مصری عوام کا جشن و سرورمصر میں جش و سرور کی محفلیں سج گئی ہیں۔ میدان التحریر میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے کئی لاکھ مصریوں نے المرسی کی کامیابی کے اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دھرنا فوجی کونسل کی مکمل برطرفی اور تحلیل تک اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔  وہ فوجی کونسل کی تحلیل اور فوجی کونسل کے زیر اثر مصری عدالتوں کے ان احکامات کے کالعدم ہونے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں جن کے تحت پارلیمان کو تحلیل کردیا گیا ہے اور صدر کے اختیارات کو کم کرکے فوج کو زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔ میدان التحریر میں لوگوں کے پاس مصری اور فلسطینی پرچم دکھائی دے رہے ہیں۔ دریں اثناء میدان التحریر میں کفن پوشوں کا ایک دستہ بھی دکھائی دے رہا ہے جو اعلان کررہا ہے کہ مصری عوام انقلاب کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگانے کے لئے بھی تیار ہیں چنانچہ المرسی کی صدارت کا اعلان ہی مصریوں کو خوش کرنے اور گھر بھیجنے کا سبب نہیں بن سکا ہے۔ کفن پوشوں نے میدان التحریر میں لگے اسٹیج کے سامنے آکر فوجی کونسل کی تمام تر دھمکیوں کو مسترد کیا ہے۔ مصری حکومت کی انتظامی تدابیرانتخابات کے نتائج کے اعلان سے قبل دارالحکومت قاہرہ سمیت مصر کے تمام بڑے شہروں میں زبردست انتظامی اقدامات اور پولیس اور فوج کی نفری کی تعیناتی عمل میں آئی اور حکومت نے غزہ کے ساتھ رفح نامی سرحدی علاقے کے بھی سیل کردیا سرکاری ملازمین کو وقت سے پہلے چھٹی کرنی پڑی سڑکوں، حساس عمارتوں، عبادتگاہوں، پٹرول پمپوں وغیرہ کے قریب زبردست فوجی نقل و حرکت نظر آئی۔ پارلیمان کی تحلیل کے باوجود، مرسی کا پارلیمان میں ہی حلف اٹھانے پر اصرارعدالت و ترقی نامی مصری پارٹی کے ایک قریبی ذریعے نے کہا کہ مصر کے منتخب صدر فوجی کونسل کی جانب سے پارلیمان کی تحلیل کے باوجود، کونسل کے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اصرار کررہے ہیں کہ وہ پارلیمان کے سامنے حلف اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دریں اثناء محمد المرسی نے اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد مصری عدلیہ، فوج، پولیس اور مصری عوام کے مبارک باد دی۔ مصری عوام کا دھرنا جاری ہے اور وہ فوجی کونسل کی طرف سے صدارتی اختیارات محدود کرنے کی آئینی ترمیم کے کے خاتمے تک میدان التحریر میں اپنا دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کررہے ہیں۔فلسطینی بھی خوشی منارہے ہیںمصر کے صدارتی انتخابات میں محمد المرسی کی کامیابی پر جہاں مصر میں ان کے حامی اور انقلاب مصر کے حامی خوشیاں منارہے ہيں وہاں فلسطین کے ستم زدہ عوام نے بھی ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے شدید حملوں کے باوجود جشن کا سماں ہے اور مجاہدین ہوائی فائرنگ کررہے ہیں۔ حماس کے ایک راہنما محمود الزہار نے محمد المرسی کی کامیابی کو عظیم کامیابی اور تاریخی لمحہ قرار دیا۔ فلسطینی وزير اعظم اسماعیل ہنیہ کی مبارکبادفلسطین کے قانونی وزیراعظم اسمعیل ہنیہ نے محمد المرسی کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور اس ریاست کے ساتھ سیکورٹی تعاون کے منصوبوں کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔اسلامی حمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی مبارک باداسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی صدارتی انتخابات میں کامیابی پر محمد المرسی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے۔ادھر مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ جنرل محمد حسین طنطاوی نے بھی محمد المرسی کو تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔ فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک، کویت کے امیر اور اخوان المسلمین کے مخالف امارات کے وزیر خارجہ نے بھی المرسی کو مبارک باد کے پییغامات بھیجے ہیں۔ صہیونیوں کی تشویشصہیونیوں نے مصر میں اسلام پسند صدر کے برسر اقتدار آنے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مصر دوسرا ایران ہوگا اور اس ملک میں اسلامی جمہوری تجربہ دہرایا جائے گا اور یہ صورت حال مصر کے لئے بہت خطرناک اور تشویشناک ہے۔اطلاعات کے مطابق صہیونی وزیراعظم بنیامین نتانیاہو نے مصر میں اسلام پسند امیدوار کی کامیابی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ مصر اور اسرائیل کے تعلقات کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے تحت جاری رہیں گے جبکہ اس سے قبل نائب صہیونی وزیر اعظم نے تجویز دی تھی کہ محمد المرسی کی کامیابی کی صورت میں مصر کے ساتھ اسرائیلی تعلقات پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔ صہیونی ریاست نے المرسی کی کامیابی کو اسرائیل کی یہودی ریاست کے لئے تاریخ کا سیاہ صفحہ قرار دیا ہے۔ صہیونی روزنامے یدیعوت احارونوت نے ان انتخاباب کے نتیجے میں ایسے راستے پر گامزن ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں یہ ملک بھی نئے ایران میں تبدیل ہوجائے گا۔ اس روزنامے نے مغرب اور صہیونیت کے جانے پہچانے حربے "اسلامو فوبیا" کے پیش نظر لکھا ہے کہ مصر نئی حکومت کی وجہ سے تشدد امیز اور انتہا پسند رویوں کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔

......./169 ـ 110

مصر کے نئے صدر المرسی کا تعارف و سیاسی نظریات